Archive | December 2015

غزل

مجھ سے بچھڑ کے خوش رہتے ہو
میری طرح تم بھی جھوٹے ہو

اک ٹہنی پہ چاند ٹکا تھا
میں یہ سمجھا تم بیٹھے ہو

اجلے اجلے پھول کھلے ہیں
بلکل جیسے تم ہنستے ہو

مجھ کو شام بتا دیتی ہے
تم کیسے کپڑے پہنے ہو

تم تنہا دنیا سے لڑو گے
بچوں سی باتیں کرتے ہو

Mirza Ghalib

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیر ہن ہر پیکرِ تصویر کا

کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

جذبہ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سیۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مُدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

بسکہ ہو ں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیرِ پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا