Ghazal

کیوں جل گیا نہ تابِ رُخِ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر

آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
سرگرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر

کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
رُکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق
لرزے ہے موجِ میں تری رفتار دیکھ کر

واحسر تا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریصِ لذتِ آزارد دیکھ کر

بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سُخن کے ساتھ
لیکن غیارِ طبع خریدار دیکھ کر

زُنار باندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
رہرو چلے ہیں راہ کو ہموار دیکھ کر

اِن آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر

کیا بد گمان ہے مجھ سے کہ آئینہ میں مرے
طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر

گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طُور پر
دیتے ہیں بادہ ظرفِ قدح خوار دیکھ کر

سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا
یاد آ گیا مجھے تیری دیوار دیکھ کر

Posted by KaiF_BarVi®™

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s