One of the most famous Ghazals by Ghalib

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زُلف کے سر ہونے تک

دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کانہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک

عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

ہم نے مانا ک تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

پر تو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں اک عنایت کی نظر ہونے تک

یک نظر پیش نہیں فرصتِ ہستی غافل
گرمئ بزم ہے اک رقصِ شرر ہونے تک

غمِ ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جزمرگِ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

Posted by KaiF_BarVi®™

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s