Archives

Iqbal Demystified

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ

Advertisements

Naat-E-Rasool (S.A.W), Poet- Mahir ul Qadri

کہاں میں ، کہاں مدحِ ذاتِ گرامی
نہ سعدی، نہ رومی، نہ قدسی نہ جامی
پسینے پسینے ہُوا جا رہا ہوں
کہاں یہ زباں اور کہاں نامِ نامی
سلام اس شہنشاہِ ہر دو سرا پر
درود اس امامِ صفِ انبیاء پر
پیامی تو بے شک سبھی محترم ہیں
مگر اﷲ اﷲ خصوصی پیامی
فلک سے زمیں تک ہے جشنِ چراغاں
کہ تشریف لاتے ہیں شاہ رسولاں
خوشا جلوہ ماہتابِ مجسم
زہے آمد آفتاب تمامی
کوئی ایسا ہادی دکھادے تو جانیں
کوئی ایسا محسن بتا دے تو جانیں
کبھی دوستوں پر نظر احتسابی
کبھی دشمنوں سے بھی شیریں کلامی
اطاعت کے اقرار بھی ہر قدم پر
شفاعت کا اقرار بھی ہر نظر میں
اصولًا خطاؤں پہ تنبیہ لیکن
مزاجاً خطا کار بندوں کے حامی
یہ آنسو جو آنکھوں سے میری رواں ہیں
عطا ئے شہنشاہ ِکون و مکاں ہیں
مجھے مل گیا جامِ صہبائے کوثر
میرے کام آئی میری تشنہ کامی
فقیروں کو کیا کام طبل و عَلم سے
گداؤں کو کیا فکر جاہ و حشم کی
عباؤں قباؤں کا میں کیا کروں گا
عطا ہو گیا مجھ کو تاجِ غلامی
انہیں صدقِ دل سے بلا کے تو دیکھو
ندامت کے آنسو بہا کے تو دیکھو
لیے جاؤ عقبی میں نامِ محمد ﷺ
شفاعت کا ضامن ہے اسمِ گرامی
کلام : مولانا ماہر القادری

Ghazal, Mirza Ghalib

غم کھانے میں بوداد دل ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مِے گلفام بہت ہے

کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے

نَے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
پاداشِ عمل کی طمعِ خام بہت ہے

ہیں اہلِ خردکس روش خاص پہ نازاں
پابستگی رسم درہِ عام بہت ہے

زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوفِ حرم سے
آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے

ہے قہر کہ اب بھی نہ بنے بات کہ اُن کو
انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے

خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے

ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

Beautiful Urdu Ghazal By Mirza Ghazal

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی

قطع کیجیے نہ تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
اے دہ مجلس نہیں خلعت ہی سہی

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی

عمر ہر چند کہ ہے برق خرام
دل کے خوں کر نے کی فرصت ہی سہی

ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیں
نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی

کچھ تو دے اے فلکِ نا انصاف
آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی

ہم بھی تسلیم کی خُو ڈالیں گے
بے نیازی تری عادت ہی سہی

یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

Ghazal by Mirza Ghalib

یک ذرہ زمیں نہیں بے کار باغ کا
یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالہ کے داغ کا

بے مَے کے ہے طاقتِ آشوب آگہی
کھپنچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کا

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گُل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

تازہ نہیں ہے نشۂ فکر سخن مجھے
تریاکی قدیم ہوں دُورِ چراغ کا

سو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوئے
پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا

image

بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہہ غبار
یہ میکدہ خراب ہے مَے کے سُراغ کا

باغ شگفتہ تیرا بساطِ نشاط دل
ابرِ بہار خمکدہ کس کے دماغ کا