Archives

وہ ایک شخص by Mohsin Naqvi

“وہ ایک شخص“

گم صم ہوا آواز کا دریا تھا جو ایک شخص
پتھر بھی نہیں اب، وہ ستارہ تھا جو ایک شخص

شاید کہ کوئ حرف دعا ڈھونڈ رہا تھا
چہروں کو بڑی غور سے پڑھتا تھا جو ایک شخص

اب تو اس نے بھی اپنا لیا دنیا کا قرینہ
سائے کی رفاقت سے بھی ڈرتا تھا جو ایک شخص

صحرا کی طرح دیر سے پیاسا تھا وہ شاید
بادل کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا جو ایک شخص

اے تیز ہوا!!!! کوئ خبر اس کے جنون کی
تنہا سفر شوق پہ نکلا تھا جو ایک شخص

اب آخری سطروں میں نام ھے اس کا
احباب کی فہرست میں پہلا تھا جو ایک شخص

مڑ مڑ کے اسے دیکھنا چاہیں میری آنکھیں
کچھہ دور مجھے چھوڑنے آیا تھا جو ایک شخص

ہر ذہن میں نقش وفا چھوڑ گیا ھے
کہنے کو بھرے شہر میں تنہا تھا جو ایک شخص

“منکر ھے اب وہی میری پہچان کا “محس
اکثر مجھے خط خون سے لکھتا تھا جو ایک شخص

Advertisements