Ghazal

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیر ہن ہر پیکرِ تصویر کا

کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

جذبہ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سیۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مُدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

بسکہ ہو ں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیرِ پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

Posted by KaiF_BarVi®™

Advertisements

Rare Mirza Ghalib Ghazal

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہا ں کہ گم کیجیے ہم نے مُدعا پایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

دوست دار دشمن ہے اعتمادِ دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نار سا پایا

سادگی و پُر کاری بیخودی و ہشاری
حُسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

غنچہ پھر لگا کھلِنے آج ہم نے اپنا دل
خُوں کیا ہوا دیکھا گُم کِیا ہوا پایا

حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈ ھا تم نے بار ہا پایا

شورِپندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا

وہ ایک شخص by Mohsin Naqvi

“وہ ایک شخص“

گم صم ہوا آواز کا دریا تھا جو ایک شخص
پتھر بھی نہیں اب، وہ ستارہ تھا جو ایک شخص

شاید کہ کوئ حرف دعا ڈھونڈ رہا تھا
چہروں کو بڑی غور سے پڑھتا تھا جو ایک شخص

اب تو اس نے بھی اپنا لیا دنیا کا قرینہ
سائے کی رفاقت سے بھی ڈرتا تھا جو ایک شخص

صحرا کی طرح دیر سے پیاسا تھا وہ شاید
بادل کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا جو ایک شخص

اے تیز ہوا!!!! کوئ خبر اس کے جنون کی
تنہا سفر شوق پہ نکلا تھا جو ایک شخص

اب آخری سطروں میں نام ھے اس کا
احباب کی فہرست میں پہلا تھا جو ایک شخص

مڑ مڑ کے اسے دیکھنا چاہیں میری آنکھیں
کچھہ دور مجھے چھوڑنے آیا تھا جو ایک شخص

ہر ذہن میں نقش وفا چھوڑ گیا ھے
کہنے کو بھرے شہر میں تنہا تھا جو ایک شخص

“منکر ھے اب وہی میری پہچان کا “محس
اکثر مجھے خط خون سے لکھتا تھا جو ایک شخص

Naat-E-Rasool (S.A.W), Poet- Mahir ul Qadri

کہاں میں ، کہاں مدحِ ذاتِ گرامی
نہ سعدی، نہ رومی، نہ قدسی نہ جامی
پسینے پسینے ہُوا جا رہا ہوں
کہاں یہ زباں اور کہاں نامِ نامی
سلام اس شہنشاہِ ہر دو سرا پر
درود اس امامِ صفِ انبیاء پر
پیامی تو بے شک سبھی محترم ہیں
مگر اﷲ اﷲ خصوصی پیامی
فلک سے زمیں تک ہے جشنِ چراغاں
کہ تشریف لاتے ہیں شاہ رسولاں
خوشا جلوہ ماہتابِ مجسم
زہے آمد آفتاب تمامی
کوئی ایسا ہادی دکھادے تو جانیں
کوئی ایسا محسن بتا دے تو جانیں
کبھی دوستوں پر نظر احتسابی
کبھی دشمنوں سے بھی شیریں کلامی
اطاعت کے اقرار بھی ہر قدم پر
شفاعت کا اقرار بھی ہر نظر میں
اصولًا خطاؤں پہ تنبیہ لیکن
مزاجاً خطا کار بندوں کے حامی
یہ آنسو جو آنکھوں سے میری رواں ہیں
عطا ئے شہنشاہ ِکون و مکاں ہیں
مجھے مل گیا جامِ صہبائے کوثر
میرے کام آئی میری تشنہ کامی
فقیروں کو کیا کام طبل و عَلم سے
گداؤں کو کیا فکر جاہ و حشم کی
عباؤں قباؤں کا میں کیا کروں گا
عطا ہو گیا مجھ کو تاجِ غلامی
انہیں صدقِ دل سے بلا کے تو دیکھو
ندامت کے آنسو بہا کے تو دیکھو
لیے جاؤ عقبی میں نامِ محمد ﷺ
شفاعت کا ضامن ہے اسمِ گرامی
کلام : مولانا ماہر القادری

Ghazal, Mirza Ghalib

کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری

خَلِشِ غمزۂ خُونریزنہ پوچھ
دیکھ خُوننا بہ فِشانی میری

کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
مگر آشفتہ بیانی میری

ہُوں زِخُود رفتۂ بیدائے خیال
بھول جانے ہے نشانی میری

متقابل ہے مقابل میرا
رُک گیا دیکھ روانی میری

قدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوں
سخت ارزاں ہے گرانی میری

گردِبادرہِ بیتابی ہوں
صَر صَرِ شوق ہے بانی میری

دہن اُس کا جو نہ معلو م ہوا
کھُل گئی ،ہیچ مدانی میری

کر دیا ضُعف نے عاجز غالبؔ
ننگِ پیری ہے جوانی میری

<!–Mirza Ghalib–>

Ghazal, Mirza Ghalib

غم کھانے میں بوداد دل ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مِے گلفام بہت ہے

کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے

نَے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
پاداشِ عمل کی طمعِ خام بہت ہے

ہیں اہلِ خردکس روش خاص پہ نازاں
پابستگی رسم درہِ عام بہت ہے

زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوفِ حرم سے
آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے

ہے قہر کہ اب بھی نہ بنے بات کہ اُن کو
انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے

خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے

ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے