Tag Archive | Ghalib

Ghazal

آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
دودِ شمع کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست

اے دلِ نا عاقبت اندیش ضبطِ شوق کر
کون لا سکتا ہے تابِ جلوۂ دیدارِ دوست

خانہ ویراں سازئ حیرت تماشا کیجئے
صورتِ نقشِ قدم ہوں رفتۂ رفتار دوست

عشق میں بیدادِ رشکِ غیرنے مارا مجھے
کشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمارِدوست

چشمِ ما روشن کہ اُس بیدرد کا دل شاد ہے
دیدۂ پُر خوں ہمارا ساغرِ سرشارِ دوست

غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اُس کے ہجر میں
بے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غمخوارِدوست

تاکہ میں جانوں کہ ہے اُس کی رسائی واں تلک
مجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدہ دیدارِ دوست

جبکہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعفِ دماغ
سرکرے ہے وہ حدیثِ زلفِ عنبر بار دوست

چُپکے چُپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر
ہنس کے کرتا ہے بیانِ شوخی گُفتارِ دوست

مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجئے
یا بیاں کیجئے سپاسِ لذتِ آزارِ دوست

یہ غزال اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے
ہے ردیفِ شعر میں غالبؔ زبس تکرارِ دوست

Posted by KaiF_BarVi®™

Advertisements

Ghazal, Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

ستائش گر ہے زاہد اس قدر باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا

بیاں کیا کیجیے بیدادِ کاوش ہائے مژگاں کا
کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا

نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا

دکھاؤں گا تماشہ‘ دی اگر فرصت زمانے نے
مرا ہر داغِ دل اک تخم ہے سردِ چراغاں کا

کیا آئینہ خانہ کا وہ نقشہ تیرے جلوہ نے
کرے جو پر تو خورشدِ عالم شنبمستاں کا

مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہَیولا برقِ خرمن کا ہے خونِ گر م دہقاں کا

اُگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
مَدار اَب کھودنے پر گھاس کے میرے درباں کا

خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزؤ میں ہیں
چراغِ مُردہ ہوں میں بے زباں گورِ غریباں کا

ہنوز اک پر تو نقش خیال یار باقی ہے
دلِ افسردہ گویا حُجرہ ہے یوسفؑ کے زنداں میں

بغل میں غیر کی آج آپ سوئے ہیں کہیں ورنہ
سبب کیا خواب میں آکر تبسم ہائے پنہاں کا

نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہو گا
قیامت ہے سر شک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا

نظر میں ہے ہماری جادۂ راہِ فنا غالبؔ
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا