Tag Archive | Ghazal

One of the most famous Ghazals by Ghalib

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زُلف کے سر ہونے تک

دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کانہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک

عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

ہم نے مانا ک تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

پر تو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں اک عنایت کی نظر ہونے تک

یک نظر پیش نہیں فرصتِ ہستی غافل
گرمئ بزم ہے اک رقصِ شرر ہونے تک

غمِ ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جزمرگِ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

Posted by KaiF_BarVi®™

Advertisements

Ghazal

کیوں جل گیا نہ تابِ رُخِ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر

آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
سرگرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر

کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
رُکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق
لرزے ہے موجِ میں تری رفتار دیکھ کر

واحسر تا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریصِ لذتِ آزارد دیکھ کر

بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سُخن کے ساتھ
لیکن غیارِ طبع خریدار دیکھ کر

زُنار باندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
رہرو چلے ہیں راہ کو ہموار دیکھ کر

اِن آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر

کیا بد گمان ہے مجھ سے کہ آئینہ میں مرے
طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر

گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طُور پر
دیتے ہیں بادہ ظرفِ قدح خوار دیکھ کر

سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا
یاد آ گیا مجھے تیری دیوار دیکھ کر

Posted by KaiF_BarVi®™

Ghazal

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
جائے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر

کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخن
جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر

کام اُس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
لیوے نہ کوئی نام ستمگر کہے بغیر

جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
سر جائے یا نہ رہیں پر کہے بغیر

چھوڑوں گا میں نہ اُس بُت کافر کا پوجنا
چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر

مقصد ہے نازو غمزہ ولے گفتگو میں کام
چلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

بہرا ہوں میں تو چاہیے دُونا ہو التفات
سُنتا نہیں ہو بات مکرر کہے بغیر

غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
ظاہر ہے تیرا حال سب اُن پر کہے بغیر

Posted by KaiF_BarVi®™

Ghazal

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیر ہن ہر پیکرِ تصویر کا

کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

جذبہ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سیۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مُدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

بسکہ ہو ں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیرِ پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

Posted by KaiF_BarVi®™

Rare Mirza Ghalib Ghazal

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہا ں کہ گم کیجیے ہم نے مُدعا پایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

دوست دار دشمن ہے اعتمادِ دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نار سا پایا

سادگی و پُر کاری بیخودی و ہشاری
حُسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

غنچہ پھر لگا کھلِنے آج ہم نے اپنا دل
خُوں کیا ہوا دیکھا گُم کِیا ہوا پایا

حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈ ھا تم نے بار ہا پایا

شورِپندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا

Ghazal, Mirza Ghalib

کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری

خَلِشِ غمزۂ خُونریزنہ پوچھ
دیکھ خُوننا بہ فِشانی میری

کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
مگر آشفتہ بیانی میری

ہُوں زِخُود رفتۂ بیدائے خیال
بھول جانے ہے نشانی میری

متقابل ہے مقابل میرا
رُک گیا دیکھ روانی میری

قدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوں
سخت ارزاں ہے گرانی میری

گردِبادرہِ بیتابی ہوں
صَر صَرِ شوق ہے بانی میری

دہن اُس کا جو نہ معلو م ہوا
کھُل گئی ،ہیچ مدانی میری

کر دیا ضُعف نے عاجز غالبؔ
ننگِ پیری ہے جوانی میری

<!–Mirza Ghalib–>

Great Ghazal by Mirza Ghalib

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

ترے وعدہ پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست نا صح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتا

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

غم اگرچہ جاں گُسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا غمِ روز گار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شبِ غم بُری بلا ہے
مجھے کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

ہوئے مر کے ہم جو رُسوا ہوتے کیوں غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

اُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بُو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا

یہ مسائل تصوف یہ ترابیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا