Tag Archive | Mirza Ghalib

One of the most famous Ghazals by Ghalib

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زُلف کے سر ہونے تک

دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کانہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک

عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

ہم نے مانا ک تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

پر تو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں اک عنایت کی نظر ہونے تک

یک نظر پیش نہیں فرصتِ ہستی غافل
گرمئ بزم ہے اک رقصِ شرر ہونے تک

غمِ ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جزمرگِ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

Posted by KaiF_BarVi®™

Advertisements

Ghazal

کیوں جل گیا نہ تابِ رُخِ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر

آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
سرگرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر

کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
رُکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق
لرزے ہے موجِ میں تری رفتار دیکھ کر

واحسر تا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریصِ لذتِ آزارد دیکھ کر

بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سُخن کے ساتھ
لیکن غیارِ طبع خریدار دیکھ کر

زُنار باندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
رہرو چلے ہیں راہ کو ہموار دیکھ کر

اِن آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر

کیا بد گمان ہے مجھ سے کہ آئینہ میں مرے
طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر

گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طُور پر
دیتے ہیں بادہ ظرفِ قدح خوار دیکھ کر

سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا
یاد آ گیا مجھے تیری دیوار دیکھ کر

Posted by KaiF_BarVi®™

Ghazal

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
جائے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر

کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخن
جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر

کام اُس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
لیوے نہ کوئی نام ستمگر کہے بغیر

جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
سر جائے یا نہ رہیں پر کہے بغیر

چھوڑوں گا میں نہ اُس بُت کافر کا پوجنا
چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر

مقصد ہے نازو غمزہ ولے گفتگو میں کام
چلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

بہرا ہوں میں تو چاہیے دُونا ہو التفات
سُنتا نہیں ہو بات مکرر کہے بغیر

غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
ظاہر ہے تیرا حال سب اُن پر کہے بغیر

Posted by KaiF_BarVi®™

Ghazal

آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
دودِ شمع کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست

اے دلِ نا عاقبت اندیش ضبطِ شوق کر
کون لا سکتا ہے تابِ جلوۂ دیدارِ دوست

خانہ ویراں سازئ حیرت تماشا کیجئے
صورتِ نقشِ قدم ہوں رفتۂ رفتار دوست

عشق میں بیدادِ رشکِ غیرنے مارا مجھے
کشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمارِدوست

چشمِ ما روشن کہ اُس بیدرد کا دل شاد ہے
دیدۂ پُر خوں ہمارا ساغرِ سرشارِ دوست

غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اُس کے ہجر میں
بے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غمخوارِدوست

تاکہ میں جانوں کہ ہے اُس کی رسائی واں تلک
مجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدہ دیدارِ دوست

جبکہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعفِ دماغ
سرکرے ہے وہ حدیثِ زلفِ عنبر بار دوست

چُپکے چُپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر
ہنس کے کرتا ہے بیانِ شوخی گُفتارِ دوست

مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجئے
یا بیاں کیجئے سپاسِ لذتِ آزارِ دوست

یہ غزال اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے
ہے ردیفِ شعر میں غالبؔ زبس تکرارِ دوست

Posted by KaiF_BarVi®™

Ghazal

تو دوست کسی کا بھی ستمگر نہ ہوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

چھوڑا مہِ نخشب کی طرح دستِ قضائے
خورشید ہنوز اُس کے برابر نہ ہوا تھا

توفیق باندازۂ ہمت ہے از ل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

جب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار عالم
میں معتقدِ فتنۂ محشر نہ ہوا تھا

میں سادہ دل ‘ آزردگی یار سے خوش ہوں
یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا

دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
میرا سرِ دمن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

جاری تھی اسدؔ داغِ جگر سے مرے تحصیل
آتش کدہ جا گیرِ سمندر نہ ہوا تھا

Posted by KaiF_BarVi®™

Ghazal

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیر ہن ہر پیکرِ تصویر کا

کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

جذبہ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سیۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مُدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

بسکہ ہو ں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیرِ پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

Posted by KaiF_BarVi®™

Rare Mirza Ghalib Ghazal

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہا ں کہ گم کیجیے ہم نے مُدعا پایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

دوست دار دشمن ہے اعتمادِ دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نار سا پایا

سادگی و پُر کاری بیخودی و ہشاری
حُسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

غنچہ پھر لگا کھلِنے آج ہم نے اپنا دل
خُوں کیا ہوا دیکھا گُم کِیا ہوا پایا

حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈ ھا تم نے بار ہا پایا

شورِپندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا