Tag Archive | Urdu

Ghazal

آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
دودِ شمع کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست

اے دلِ نا عاقبت اندیش ضبطِ شوق کر
کون لا سکتا ہے تابِ جلوۂ دیدارِ دوست

خانہ ویراں سازئ حیرت تماشا کیجئے
صورتِ نقشِ قدم ہوں رفتۂ رفتار دوست

عشق میں بیدادِ رشکِ غیرنے مارا مجھے
کشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمارِدوست

چشمِ ما روشن کہ اُس بیدرد کا دل شاد ہے
دیدۂ پُر خوں ہمارا ساغرِ سرشارِ دوست

غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اُس کے ہجر میں
بے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غمخوارِدوست

تاکہ میں جانوں کہ ہے اُس کی رسائی واں تلک
مجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدہ دیدارِ دوست

جبکہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعفِ دماغ
سرکرے ہے وہ حدیثِ زلفِ عنبر بار دوست

چُپکے چُپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر
ہنس کے کرتا ہے بیانِ شوخی گُفتارِ دوست

مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجئے
یا بیاں کیجئے سپاسِ لذتِ آزارِ دوست

یہ غزال اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے
ہے ردیفِ شعر میں غالبؔ زبس تکرارِ دوست

Posted by KaiF_BarVi®™

Ghazal

تو دوست کسی کا بھی ستمگر نہ ہوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

چھوڑا مہِ نخشب کی طرح دستِ قضائے
خورشید ہنوز اُس کے برابر نہ ہوا تھا

توفیق باندازۂ ہمت ہے از ل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

جب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار عالم
میں معتقدِ فتنۂ محشر نہ ہوا تھا

میں سادہ دل ‘ آزردگی یار سے خوش ہوں
یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا

دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
میرا سرِ دمن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

جاری تھی اسدؔ داغِ جگر سے مرے تحصیل
آتش کدہ جا گیرِ سمندر نہ ہوا تھا

Posted by KaiF_BarVi®™

Rare Mirza Ghalib Ghazal

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہا ں کہ گم کیجیے ہم نے مُدعا پایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

دوست دار دشمن ہے اعتمادِ دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نار سا پایا

سادگی و پُر کاری بیخودی و ہشاری
حُسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

غنچہ پھر لگا کھلِنے آج ہم نے اپنا دل
خُوں کیا ہوا دیکھا گُم کِیا ہوا پایا

حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈ ھا تم نے بار ہا پایا

شورِپندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا

Ghazal, Mirza Ghalib

غم کھانے میں بوداد دل ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مِے گلفام بہت ہے

کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے

نَے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
پاداشِ عمل کی طمعِ خام بہت ہے

ہیں اہلِ خردکس روش خاص پہ نازاں
پابستگی رسم درہِ عام بہت ہے

زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوفِ حرم سے
آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے

ہے قہر کہ اب بھی نہ بنے بات کہ اُن کو
انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے

خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے

ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

Ghazal, Mirza Assad Ullah Khan Ghalib

ستائش گر ہے زاہد اس قدر باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا

بیاں کیا کیجیے بیدادِ کاوش ہائے مژگاں کا
کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا

نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا

دکھاؤں گا تماشہ‘ دی اگر فرصت زمانے نے
مرا ہر داغِ دل اک تخم ہے سردِ چراغاں کا

کیا آئینہ خانہ کا وہ نقشہ تیرے جلوہ نے
کرے جو پر تو خورشدِ عالم شنبمستاں کا

مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہَیولا برقِ خرمن کا ہے خونِ گر م دہقاں کا

اُگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
مَدار اَب کھودنے پر گھاس کے میرے درباں کا

خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزؤ میں ہیں
چراغِ مُردہ ہوں میں بے زباں گورِ غریباں کا

ہنوز اک پر تو نقش خیال یار باقی ہے
دلِ افسردہ گویا حُجرہ ہے یوسفؑ کے زنداں میں

بغل میں غیر کی آج آپ سوئے ہیں کہیں ورنہ
سبب کیا خواب میں آکر تبسم ہائے پنہاں کا

نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہو گا
قیامت ہے سر شک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا

نظر میں ہے ہماری جادۂ راہِ فنا غالبؔ
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا